پاکستان کیلئےبھی بہتر ہوگاہم دوبارہ الیکشن کرائیں:وزیر اعظم

07:49 PM, 1 Apr, 2022

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہماری اگر فوج مضبوط نہ ہو تو ہمارے تین حصے ہو سکتے تھے ،ہمارے دشمن پاکستان کے 3ٹکڑےکرناچاہتےہیں،ہمیں ایسی چیز نہیں کرنی چاہئے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا برصغیر کی تاریخ ایسی ہے جس میں اسے باہر سےکنٹرول کیا گیا،برصغیرکوکنٹرول کرنےکیلئےمیرصادق اورمیرجعفرکو استعمال کیا گیا،کوئی بھی سازش ہوتی ہےتواس میں میرصادق اورمیرجعفرہوتےہیں،میرصادق اورمیرجعفر جیسے لوگوں کےذریعےسازش کرائی جاتی تھیں،انہوں نے کہا اگست سے مجھے آئیڈیاہوگیا تھا میرے خلاف سازش ہورہی ہے،ایجنسی کی رپورٹ تھی لوگ یہاں سے لندن جاتے اور آتےتھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا بیرونی سازش گزشتہ پانچ چھ ماہ سے چل رہی ہے ،لیکن پاکستان کو بیرونی سازش سے بچانے کیلئے میں آخری گیند تک لڑوں گا ،عمران خان نے کہا شہبازشریف اس سازش کا حصہ ہیں،ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ یہ بیرونی سازش ہے، یہ قوم کےغدار ہیں،باہر کی سازش کاحصہ بن کر پیسے لےکرحکومت گرا رہے ہیں،ہمارے پاس ثبوت ہیں باہر سے سازش ہوئی ہےپیسے دیئے گئے ہیں،عمران  خان نے بڑی بات کرتے ہوئے کہا ہمارے جتنے لوگ بھاگ گئے ہیں،ان کے ساتھ ہم حکومت نہیں چلاسکتے،پاکستان کیلئےبھی بہتر ہوگاہم دوبارہ الیکشن کرائیں،اگرعدم اعتمادکی تحریک جیت جاتاہوں توجلد الیکشن کرادیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا نوازشریف لندن میں بیٹھ کرلوگوں کو مل رہا تھا،حسین حقانی لندن میں نوازشریف سے ملاقات کر رہےتھے،سازشی عناصر کو ملک  غلام بنانےکیلئے ایسے لوگ چاہئیں،ایسے لوگ ذاتی مفاد کیلئے ملک کو قربان کردیتے ہیں،انہوں نے کہا ہم اپنی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں،نوازشریف اور اس کی بیٹی نے فوج کو کھل کر برابھلا کہاتاکہ ا نہیں بین الاقوامی آشیر باد ملتی رہے ۔

عمران خان کا کہنا تھامیرے جو بھی ایشوزہوں کبھی اپنی فوج کیخلاف بات نہیں کروں گا،فوج کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے نوازشریف ہیں ،اینٹی فوج لوگ کھل کر فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں،نوازشریف کے ساتھ وہ رابطے میں بھی تھے جو پاک فوج کیخلاف ہیں،نوازشریف نے ملک کو جتنا نقصان پہنچایا کسی نے نہیں پہنچایا۔

وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ کرتے ہوئے کہا مجھے اپنی حکومت کی فکر نہیں اسی لئے انہیں این آراونہیں دیا،جب تک زندہ ہوں نظریہ پاکستان کیلئے لڑوں گا،انہوں نے کہا میں سیاست میں نظریہ پاکستان کے لیے آیا تھا، ان کا ملک کو چلانے کا مقصد ہےبیرونی ممالک سے امداد لیتے رہیں۔

فار ن پالیسی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا فارن پالیسی اپنے ملک کے لوگوں کےمفادات کیلئے بنتی ہے،انہوں نے دوسرے ممالک کیلئےاپنی فارن پالیسی کو قربان کیا،لیکن دوسری طرف میں پاکستان میں آزاد خارجہ پالیسی چاہتا ہوں، پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہئے،ذوالفقاربھٹوقائداعظم کے بعددوسرےآدمی تھے جنہوں نے خارجہ پالیسی بنائی،لیکن ذوالفقار بھٹو کو فضل الرحمان اور نوازشریف کی پارٹیز نے قتل کرایا۔

مزیدخبریں