"خارجی لابیئنگ پاکستانی عدالتوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، عدالتی فیصلے  ایوانِ عدل میں ہوں گے"

12:45 PM, 1 Apr, 2026

اسلام آباد :پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف حالیہ بین الاقوامی پروپیگنڈے اور عمران خان کی رہائی کے لیے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ کے تناظر میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے، جہاں فیصلے عدالتیں کرتی ہیں، اخباری کالم یا غیر ملکی لابیئسٹ نہیں۔

عدالتی فیصلوں اور  لاخارجی لابنگ کے حوالے سے ہیومن رائٹس لائر ایرک لیوس  نے  ایک دی انڈیپنڈنٹ یو کے میں ایک آرٹیکل لکھا ہے اوراس میں   عمران خان کی رہائی کے حوالے سے  اظہار خیال کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں   پاکستان کے اندرونی قانونی معاملات اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی سے متعلق حالیہ عالمی مہم اور بین الاقوامی جریدوں میں چھپنے والے مضامین پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی بیانیے کے ذریعے پاکستان کے خود مختار عدالتی نظام کو دبانے کی کوششیں جمہوری اور قانونی اصولوں کے منافی ہیں۔


رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں ایرک لیوس اور دیگر مبصرین کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا میں جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ قانونی حقائق کے بجائے محض ’سیاسی وکالت‘ پر مبنی ہیں۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حراست ’من مانی‘ نہیں بلکہ وہ پاکستانی قانون کے تحت مختلف کیسز میں سزا یافتہ قیدی ہیں۔ عالمی سطح پر اسے ’سیاسی مظلومیت‘ بنا کر پیش کرنا پاکستان کے قانونی ریکارڈ اور عدالتی طریقہ کار کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

تجزیے میں اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کا استحکام کسی ایک شخصیت سے جڑا ہے۔پاکستان نے حالیہ عرصے میں ثابت کیا ہے کہ ریاست اداروں کے ذریعے چلتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بیک چینل سفارت کاری اور علاقائی امن کی کوششوں میں اسلام آباد کا کلیدی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی پالیسیاں کسی فرد کے گرد نہیں گھومتیں۔سابقہ دور حکومت میں کوالالمپور سمٹ اور او آئی سی کے معاملے پر پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ نے ثابت کیا تھا کہ غیر مستقل مزاجی ریاست کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے، جسے بعد میں اداروں نے بڑی محنت سے درست کیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ کہنا کہ "کسی فرد کے خلاف قانونی کارروائی ملک میں عدم استحکام لائے گی" دراصل تجزیہ نہیں بلکہ ’پریشر ٹیکٹک‘ ہے۔    پاکستان کے خود مختار نظامِ عدل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کے بغیر فیصلے کرے۔    کسی فرد کی قانونی تقدیر کو ریاست کی بقا کا مسئلہ بنانا ایک خطرناک بیانیہ ہے جو جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
 پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ عالمی برادری اور لابیئسٹس کو سمجھنا چاہیے کہ خود مختار ریاستوں کے عدالتی فیصلے ’اوپ ایڈز‘ (Op-eds) یا لابیئنگ کے ذریعے نہیں بلکہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر عدالتوں میں ہی ہوں گے۔

مزیدخبریں