آپریشن سندور: مودی حکومت کے مبہم جوابات، ہندوتوا بیانیے کا سہارا

04:11 PM, 1 Aug, 2025

نئی دہلی ؔبھارتی پارلیمنٹ میں "آپریشن سندور" پر ہونے والی حالیہ طویل بحث کے دوران مودی حکومت قومی سلامتی جیسے نازک معاملے پر ٹھوس مؤقف دینے میں ناکام رہی۔ 16 گھنٹے جاری رہنے والی بحث میں بنیادی سوالات کے جوابات کے بجائے سیاسی الزامات، جذباتی بیانات اور ہندوتوا بیانیے کو ہوا دی گئی۔

حزبِ اختلاف نے پہلگام حملے، انٹیلیجنس کی ناکامی، اور ریسپانس سسٹم کی کمزوریوں پر سخت سوالات اٹھائے، مگر حکومت ان کا کوئی واضح جواب نہ دے سکی۔ سیکیورٹی کی صورتحال، حملہ آوروں کے داخلے اور فرار سے متعلق پہلو مکمل طور پر نظر انداز کر دیے گئے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے جواب دینے کے بجائے حزبِ اختلاف پر پاکستان نواز ہونے کے الزامات لگا دیے، جسے آزاد ذرائع، خصوصاً بھارتی نیوز پلیٹ فارم "دی وائر"، نے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ رویہ دراصل ہندوتوا حلقوں کو متحرک کرنے اور اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی دفاعی برتری، بھارتی فضائی نقصانات، اور بین الاقوامی ردِعمل جیسے اہم نکات پر بھی حکومت کی پالیسی غیر واضح رہی۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی شہروں پر کنٹرول کے دعوے بھی خود حکومتی وضاحتوں میں متضاد دکھائی دیے۔

مزید برآں، حکومت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی دعوتوں، چین کی حمایت، اور عالمی برادری کی خاموشی جیسے معاملات پر بھی لب کشائی نہیں کی، جس سے حکومت کی سفارتی پوزیشن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بحث کے اختتام پر حکومت کی طرف سے یہ تسلیم کیا جانا کہ "آپریشن سندور اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر سکا"، دراصل اس ناکامی کا اشارہ ہے جس کا اعتراف براہِ راست نہیں کیا گیا، مگر مبہم بیانات سے واضح ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت نے اس موقع کو شفاف جواب دہی کی بجائے سیاسی مفادات اور قوم پرستانہ بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا، جو بھارت میں جمہوری بحث کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

مزیدخبریں