اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئین، جمہوریت اور اظہارِ رائے کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
کانفرنس کے میزبان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے کانفرنس کے لیے مقامی ہوٹل میں بکنگ منسوخ کروا دی، جس سے یہ تاثر ملا کہ اپوزیشن کو دارالحکومت میں بھی جگہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں شریک تمام جماعتوں نے ملک کی سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں 2024 کے عام انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔
اعلامیے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
ملک میں غربت 45 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، مہنگائی سے تنخواہ دار طبقہ بُری طرح متاثر ہے۔
کاروباری طبقہ عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک چھوڑ رہا ہے۔
بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کی قید کی مذمت کی گئی، اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
عدلیہ کی آزادی، آزاد الیکشن کمیشن اور "ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن" کے قیام پر زور دیا گیا۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی بگڑتی صورتحال پر قومی سطح پر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملک کو ایک نئے "میثاق جمہوریت" کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی استحکام ممکن ہو۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور پارلیمانی جمہوری نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں جلد ایک متحدہ حکمت عملی طے کریں گی تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔