بلوچستان کوئلہ کان سانحہ، شانگلہ کے 28 نوجوان سپردِ خاک، ضلع بھر میں سوگ

12:15 AM, 1 Aug, 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے سورینج کول فیلڈ میں میتھین گیس کے دھماکے سے پیش آنے والے ہولناک سانحے نے خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ، خصوصاً گاؤں میان کلے کو غم میں ڈبو دیا، جہاں ایک ہی بستی کے 23 نوجوان مزدوروں سمیت مجموعی طور پر 28 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے مطابق جاں بحق ہونے والے 28 مزدوروں میں 23 کا تعلق میان کلے (پیر آباد)، دو کا کانہ جبکہ ایک، ایک مزدور بڑا اور گاتا بیلی بابا کے رہائشی تھے۔ ایک ہی گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں اموات کے بعد علاقے میں ہر طرف سوگ کی فضا ہے اور بیشتر گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔ زیادہ تر نوجوان آپس میں قریبی رشتہ دار یا کزن تھے، جبکہ کئی ایسے بھی تھے جن کے والد ماضی میں کوئلہ کانوں کے حادثات میں جاں بحق ہو چکے تھے اور وہ پہلے ہی یتیمی کی زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سانحہ قدرتی حادثہ نہیں بلکہ حفاظتی انتظامات میں سنگین غفلت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کان میں مناسب وینٹیلیشن کا نظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث میتھین گیس جمع ہوئی اور زوردار دھماکا ہوا۔

حادثے میں تین سگے بھائی بھی جان کی بازی ہار گئے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاشوں کی منتقلی کے لیے ایمبولینس تک فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث انہیں اپنے پیاروں کی میتیں ذاتی وسائل سے آبائی علاقوں تک پہنچانا پڑیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایک میت جمعہ کی شام شانگلہ پہنچ گئی تھی، جبکہ دیگر لاشیں مرحلہ وار رات گئے اور ہفتے کی صبح تک پہنچنے کی توقع تھی۔

ریسکیو حکام کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سورینج کول فیلڈ میں میتھین گیس کے دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور کان بیٹھ جانے سے دو کانیں متاثر ہوئیں۔ اس وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 34 مزدور موجود تھے۔

چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان محمد عاطف نے بتایا کہ اب تک 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ باقی دو افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کی شدت سے ملحقہ دوسری کان بھی متاثر ہوئی، جہاں 12 مزدور کام میں مصروف تھے۔

عابد یار کا کہنا تھا کہ شانگلہ میں روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔ ان کے بقول یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ کئی خاندانوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور ماؤں کے لیے ناقابلِ تلافی المیہ ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ جون میں خانوزئی میں دھماکا خیز مواد پھٹنے سے تین مزدور زخمی ہوئے تھے، جبکہ اپریل میں بولان اور دکی کی کانوں میں پیش آنے والے دو الگ الگ حادثات میں کم از کم پانچ کان کن جان سے گئے تھے۔

حالیہ سانحے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات، سرکاری نگرانی اور مزدوروں کے تحفظ کے مؤثر نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزیدخبریں