لاہور : ماضی کے مقبول گلوکار سلیم جاوید، جنہوں نے اپنے بلوچی گیت "جگنی" کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی، نے نئے سال کے موقع پر اپنے مداحوں کے لیے ایک خاص تحفہ پیش کیا ہے۔ سلیم جاوید نے اپنے مشہور بلوچی گیت کو نئی دھن اور جدید موسیقی کے رنگ میں ڈھال کر دوبارہ سے موسیقی کے شائقین کی توجہ حاصل کی ہے۔
نیا بلوچی گیت ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ شائقین نہ صرف اس گیت کو بھرپور انداز میں شیئر کر رہے ہیں بلکہ اس کی دلکش دھن، جدید پیشکش اور ثقافتی رنگوں کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ گلوکار نے خود اس گیت کو اپنے مداحوں کے لیے نئے سال کا خصوصی تحفہ قرار دیا ہے۔
یہ گیت سلیم جاوید اور بلوچی موسیقی کے درمیان اس گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے جو ان کے فن کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے۔ تقریباً چالیس برس قبل ریلیز ہونے والا ان کا پہلا البم بھی ایک بلوچی گیت کے باعث غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکا تھا، اور اب وہ ایک بار پھر اسی موسیقی کی طرف لوٹ کر اسے جدید انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
نئے گیت کی ویڈیو میں جدید بصری تکنیک، نئی کہانی اور نوجوان نسل کی پسند کے عناصر شامل کیے گئے ہیں، تاہم بلوچی لوک موسیقی کی اصل روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گیت نہ صرف پرانے مداحوں کو اپنی طرف مائل کر رہا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔
سلیم جاوید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر روایتی موسیقی کو تخلیقی اور جدید انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ہر دور میں زندہ رہ سکتی ہے۔ ان کے موسیقی کے سفر میں جدت اور تجربہ ہمیشہ ایک اہم جزو رہے ہیں۔
سلیم جاوید کی شہرت کا آغاز "جگنی" جیسے لوک گیت سے ہوا تھا، جو آج بھی ان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ وہ پاکستان میں ریمکس موسیقی متعارف کرانے والے پہلے فنکاروں میں شامل ہیں، جنہوں نے کلاسیکل دھنوں کو جدید انداز میں پیش کر کے نئی نسل کو جوڑا۔