امریکی تاریخ میں نیا باب: ظہران ممدانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

10:51 AM, 1 Jan, 2026

نیویارک : امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ایک تاریخی لمحہ آیا جب 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھال لیا۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلم، جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد میئر بنے ہیں، اور ان کی حلف برداری نے شہر کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

ظہران ممدانی نے اپنے حلف برداری کے موقع پر نیویارک کے عوام کو نیا سال مبارکباد دی اور کہا کہ میئر بننا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے سٹی ہال کے نیچے واقع ایک طویل عرصے سے بند سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھایا، جو خود ایک منفرد اور یادگار مقام تھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب نیویارک سٹی کے کسی میئر نے قرآن پر حلف لیا ہے، حالانکہ ماضی میں زیادہ تر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے رہے ہیں۔

ممدانی کی حلف برداری صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں، بلکہ یہ نیویارک کی مذہبی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر، انہوں نے قرآن کے دو نسخے استعمال کیے: ایک ان کے دادا کا قرآن اور دوسرا ایک صدیوں پرانا مختصر نسخہ، جو نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر میں محفوظ ہے۔ یہ قرآن عوامی رسائی اور سادگی کی علامت ہے۔

ظہران ممدانی کی ذاتی شناخت بھی اسی تنوع کی نمائندہ ہے؛ وہ جنوبی ایشیائی نژاد ہیں، یوگنڈا میں پیدا ہوئے، اور نیویارک میں بڑے ہوئے۔ ان کی اہلیہ امریکی نژاد شامی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران، انہوں نے مہنگائی اور شہری مسائل پر توجہ مرکوز کی، اور اپنی مسلم شناخت کو فخر کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے نیویارک کی مساجد کا دورہ کر کے مسلم اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ووٹرز کو متحرک کیا۔

ان کی سیاسی کامیابی کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبک تنقید بھی سامنے آئی، خاص طور پر قرآن پر حلف اٹھانے کے فیصلے پر اعتراضات آئے۔ تاہم، ممدانی نے واضح کیا کہ وہ اپنی شناخت اور عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور کہا کہ وہ اپنی زندگی اور ایمان کو فخر کے ساتھ سب کے سامنے رکھیں گے۔

ظہران ممدانی کی حلف برداری کے بعد استعمال ہونے والا تاریخی قرآن نیویارک پبلک لائبریری میں عوامی نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔ اس اقدام سے منتظمین کو امید ہے کہ لوگ نیویارک میں مسلم تاریخ اور ثقافت کے ذخیرے میں مزید دلچسپی لیں گے۔

مزیدخبریں