محکمہ داخلہ پنجاب کی صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری

12:39 PM, 1 Jan, 2026

لاہور : محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ مراسلہ صوبائی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ارسال کیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب غیر قانونی پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔

حکام کے مطابق، حکومت پنجاب نے صوبے کے کچھ علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں "کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025" کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ نے لاہور میں بسنت کے موقع پر 6، 7 اور 8 فروری کو محفوظ اور محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بسنت کے دوران مقررہ وقت سے قبل کسی بھی جگہ پتنگ بازی یا پتنگ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس کی وجہ سے پچھلے برسوں میں کئی راہگیروں کے زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

محکمہ داخلہ نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور خطرناک پتنگ بازی کو کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ بسنت کے دوران صرف ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ بسنت کی اجازت ہوگی، لیکن تندی، دھاتی ڈور یا مانجھا لگی ڈور کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

محکمہ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی پتنگ سازی یا فروخت کرنے والے افراد کو بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پتنگ بنانے والوں، سامان فراہم کرنے والوں اور پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ تمام کارروائیاں "کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025" کے مطابق ہوں گی۔

تمام اضلاع کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عملدرآمد کی مکمل رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کریں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور اس تہوار کو محفوظ طریقے سے منائیں۔

مزیدخبریں