یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، ایمرجنسی الرٹ جاری ، ہیٹ ویو سے معمولات زندگی متاثر

01:49 PM, 1 Jul, 2025

لندن : یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں آگیا ہے، جہاں مختلف ممالک میں درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ متعدد یورپی ممالک نے ہیٹ ویو کے باعث ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیے ہیں جبکہ ماہرین صحت اور ماحولیات نے عوام کو سخت احتیاط برتنے کی ہدایات دی ہیں۔

پرتگال کے علاقے مورا میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو رواں برس کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ سپین میں 1965 کے بعد پہلی مرتبہ پارہ 46 ڈگری کو چھو گیا، جبکہ یورپ کے کئی مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔

ہیٹ ویو کے باعث اٹلی، یونان، سپین اور پرتگال میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اٹلی کے بڑے شہروں روم، میلان اور نیپلز سمیت 21 شہروں کو "ہائی ہیٹ الرٹ" میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گزشتہ روز سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جس کے باعث اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔

برطانیہ میں بھی غیر معمولی گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔ مانچسٹر میں جون کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری تک جا پہنچا۔ برطانوی تاریخ میں یہ جون کا سب سے گرم دن تصور کیا جا رہا ہے۔

ادھر مختلف یورپی حکومتوں نے جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کے پیشِ نظر وائلڈ فائر وارننگز بھی جاری کر دی ہیں۔ عوام کو غیر ضروری آؤٹ ڈور سرگرمیوں سے گریز کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے، اور بزرگ و بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

کئی شہروں میں دن کے اوقات میں آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی لگانے پر غور جاری ہے، جبکہ شہری علاقوں میں ٹھنڈے مقامات اور پارکوں میں لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ متعدد افراد نے گرمی سے بچاؤ کے لیے ساحلوں کا رخ کر لیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس قسم کی ہیٹ ویوز آئندہ برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو گئی ہے۔

مزیدخبریں