لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ 10 برسوں کے دوران 45 ہزار غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق ملک بدری کے عمل کو مؤثر اور تیز بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مختلف حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد، غیر ملکی مجرموں اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق ایسے افراد کو حراست میں لے کر ان کی ملک بدری کا عمل جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی روک تھام اور قانونی امیگریشن نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی قیام کے خلاف مستقبل میں بھی مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صرف قانونی طریقہ کار کے تحت امیگریشن کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔