نئی دہلی : بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر نفرت اور مذہبی منافرت پر مبنی سیاست کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں عوام کی جانب سے مودی حکومت کے حالیہ اقدامات، خاص طور پر متنازعہ "آپریشن سندور" پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقے اسے ایک "سیاسی ڈرامہ" قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد عوامی جذبات کا استحصال کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لاکھوں افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر واقعی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں تو ان کے ثبوت کہاں ہیں؟
نریندر مودی پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وہ ہر الیکشن میں "ہندو مسلم" کارڈ کھیل کر معاشرتی تقسیم کو ہوا دیتے ہیں۔ عوامی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ مودی مسلمانوں کو غدار قرار دے کر ہندو ووٹرز کو متحرک کرتے ہیں، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
عوام کا مزید کہنا تھا کہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انہوں نے عوامی بہبود پر بجٹ خرچ کیا، مگر حقیقت میں زیادہ تر وسائل انتخابی مہمات پر خرچ کیے گئے۔ "پہلگام حملے میں تمام مذاہب کے افراد شہید ہوئے، مگر بی جے پی نے صرف نفرت پھیلائی،" ایک شہری نے کہا۔
ادھر حکومت کے حمایتی میڈیا ادارے، جنہیں ناقدین "گودی میڈیا" کہتے ہیں، پر بھی شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا نے حکومتی بیانیے کو بغیر تحقیق کے نشر کیا، اور یہاں تک کہ لاہور و کراچی میں چائے پینے جیسے جھوٹے دعوے بھی کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی عوام میں بڑھتی ہوئی بیداری اور سوشل میڈیا کی رسائی نے حکومت کے بیانیے کو چیلنج کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2024 کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔