غزہ : اسرائیلی حکومت نے فلسطینی صدر کی دعوت پر مغربی کنارے میں واقع فلسطینی انتظامی مرکز رام اللہ کا دورہ کرنے والے مصر، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو روک دیا ہے۔ یہ دورہ ایک اہم اجلاس کے لیے شیڈول تھا جو بین الاقوامی کانفرنس سے قبل ہونا تھا، جس کی مشترکہ میزبانی فرانس اور سعودی عرب کریں گے۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی بات چیت کی اجازت نہیں دیں گے، جس پر عرب وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی اس رکاوٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر بمباری کے نتیجے میں 31 فلسطینی شہید اور 120 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک تقریباً 54 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 24 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ حکومتی میڈیا کے مطابق شہدا کی تعداد 61 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ان فضائی حملوں میں ڈاکٹر حمدی النجار بھی شدید زخمی ہوئے تھے جو کچھ روز قبل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کے 9 بچے بھی اسی حملے میں شہید ہو چکے ہیں اور ان کا 11 سالہ بیٹا واحد زندہ بچا ہے۔ ان کی اہلیہ، ڈاکٹر علا النجار، جو ماہر اطفال ہیں، حملے سے چند گھنٹے قبل گھر سے کام پر جانے کے لیے نکلی تھیں۔
اقوام متحدہ نے غزہ کو دنیا کا سب سے زیادہ بھوکا اور انسانی امداد کے لیے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار مقام قرار دیا ہے، جہاں امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں سخت رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔