ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی نافذ

06:50 PM, 1 Jun, 2026

کوالالمپور: ملائیشیا نے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ پیر سے شروع ہو چکا ہے، جن کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے صارفین کی عمر کی تصدیق سرکاری ریکارڈ کے ذریعے لازمی قرار دی گئی ہے۔

یہ قوانین فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر ایک کروڑ رنگٹ (تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ کم عمر صارفین کے لیے محفوظ آن لائن ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

کمیشن کے مطابق موجودہ صارفین کی بھی عمر کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی اور اس عمل کی تکمیل کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر نقصان دہ مواد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث نگرانی کے اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

حکومت خاص طور پر ایسے مواد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو نسلی یا مذہبی کشیدگی کو بڑھائے یا ملکی اداروں اور بادشاہت کے خلاف اشتعال پیدا کرے۔

ملائیشیا اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں حکومتیں بچوں کے آن لائن تحفظ اور سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کر رہی ہیں۔
 

مزیدخبریں