واشنگٹن : امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر امریکی فوجی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔
کملا ہیرس نے کہا کہ "یہ کارروائی ایک خطرناک اور غیر ضروری جوا ہے جو نہ صرف امریکی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔" انہوں نے ٹرمپ کی ایران کے ساتھ تنازعے میں مداخلت پر سوال اٹھایا اور اسے "عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی" قرار دیا۔
ہیرس نے مزید کہا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور امریکی فوجیوں کو محض "انتخابی جنگ" کی خاطر خطرے میں ڈالنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ان کے مطابق، آئین کے تحت صدر کو کسی بھی جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، اور اس لیے کانگریس کو اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مزید عسکری پیش قدمی کو روکنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم ایران کے خطرات سے آگاہ ہیں اور یہ نہیں ہونے دیا جا سکتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے، لیکن موجودہ راستہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔"
کملا ہیرس نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بہادر اہلکاروں کے لیے دعاگو ہیں جو خطرناک مشنز پر تعینات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو جنگی جنون کے بجائے ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے تاکہ عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔