صدر اور وزیراعظم کی ملاقات،بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار ،عالمی برادری سے نوٹس لینےکا مطالبہ

07:57 PM, 1 May, 2025

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مسلح افواج کے ساتھ متحد ہے اور قوم کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر اقدامات کرے گا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بھارت کے جارحانہ رویے اور تشویشناک بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، اور بھارت کے ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔ سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت اور وزیراعظم نے پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی قیادت کے بغیر تحقیق کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور عالمی برادری سے درخواست کی گئی کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو فنڈنگ، تربیت اور بھیجنے کے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔

صدر آصف علی زرداری نے بھارتی الزامات کے جواب میں حکومت کے ذمہ دارانہ ردعمل کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان کبھی بھی اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے، لیکن پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر بے جا الزامات عائد کیے تھے اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان نے بھارت کی اشتعال انگیزی کا جواب دیتے ہوئے تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی اور فضائی حدود سمیت سرحدی آمد و رفت اور تجارت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزیدخبریں