پیرس/اسلام آباد : مشہور عالمی جریدے "لے مونڈ" (Le Monde) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کی ناکامی کا کچا چٹھا کھول دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا آپریشن "سندور" بری طرح ناکام ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کے کردار میں مزید استحکام آیا ہے جبکہ بھارت تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
جریدے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اور سخت گیر پالیسیوں نے مودی سرکار کو عالمی سفارتی محاذ پر دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ کی ترجیحات کے باعث مودی کی وہ عالمی حیثیت برقرار نہ رہ سکی جس کا وہ دعویٰ کرتے تھے، اور کئی اہم معاملات میں بھارت کو واشنگٹن کی جانب سے شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی نے انتخابی حد بندیوں کے ذریعے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کی جو کوشش کی تھی، وہ عوامی اور سیاسی سطح پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے مودی کا "اقتصادی قوت" بننے کا دعویٰ ہوا ہو گیا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور آمرانہ طرزِ حکومت کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارتی جمہوری اقدار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارت کی ان ناکامیوں اور آپریشن "سندور" کے فلاپ ہونے کے بعد پاکستان کے عالمی کردار میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور عسکری و سیاسی قیادت کے صائب فیصلوں نے اسے خطے میں ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر ابھارا ہے، جبکہ بھارت اپنی ہی سازشوں کے جال میں پھنس کر عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔