یوایچ ایس کے وائس چانسلر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات، یونیورسٹی کی ساکھ خطرے میں

08:05 PM, 1 Nov, 2025

لاہور : یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری وسائل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یونیورسٹی کے کئی ملازمین کو وائس چانسلر کے ذاتی فارم ہاؤس اور کھیت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو لاہور سے تقریباً 125 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ملازمین روزانہ سرکاری گاڑی اور پیٹرول استعمال کرتے ہوئے وہاں پہنچائے جاتے ہیں، جس کا ماہانہ خرچ لاکھوں روپے بنتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ملازمین کو دفتر کے اوقات کار میں کھیت اور فارم ہاؤس پر جسمانی مشقت والے کاموں پر مامور کیا جاتا ہے، جبکہ انکار کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ نیو نیوز کے پروگرام " پاکستان پوچھتا ہے" میں اس کی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔

روزنامہ" نئی بات" نے بھی ملازمین کی فہرست حاصل کی ہے، جن میں پلمبر، بڑھئی، الیکٹریشن، پینٹر اور اے سی مکینک شامل ہیں۔ ان میں سدی، رمیز، عثمان، حفیظ، ندیم اور عمر بطور پلمبر، رمضان اور اسامہ بطور الیکٹریشن، سلوسٹر بطور پینٹر اور وین بطور اے سی مکینک خدمات انجام دے رہے ہیں۔

صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پروفیسر شاہد ملک نے کہا کہ طلبہ کی فیسیں میڈیکل تعلیم کے لیے استعمال ہونی چاہئیں، نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے، اور ملازمین سے ذاتی کام لینا مالی بے ضابطگی اور اخلاقی کرپشن ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں کرپشن اور سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتے ہیں اور سخت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ملازمین کے حقوق محفوظ ہوں۔ طلبہ اور اساتذہ کی برادری میں بھی اس معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، اور کئی حلقوں نے اسے یونیورسٹی کی ساکھ کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔اب تک یو ایچ ایس انتظامیہ اور وائس چانسلر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور کی جانب سے کوئی موقف نہیں دیا گیا بلکہ متعدد بار رابطہ کیا گیا اور اس معاملے پر میڈیا ڈائریکٹر یو ایچ ایس سے بھی بات کی لیکن کسی قسم کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا ۔

مزیدخبریں