افغانستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل ، کابل ایئرپورٹ بھی مکمل طور پر بند

01:56 PM, 1 Oct, 2025

کابل:  افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں اچانک انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کے بعد کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے پیر کے روز انٹرنیٹ کی بندش کا فیصلہ کیا گیا، جو تاحکم ثانی برقرار رہے گا۔ حکومت کی طرف سے اس اقدام کی کوئی واضح یا سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم اس فیصلے نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث نہ صرف اندرون اور بیرونِ ملک مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے بلکہ ضروری خدمات جیسے آن لائن تعلیم، بینکاری، سرکاری و نجی اداروں کا ڈیجیٹل رابطہ بھی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، کابل کا مرکزی ہوائی اڈہ — حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ — بھی گزشتہ شب سے مکمل طور پر بند ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس "فلائٹ ریڈار 24" کے مطابق متعدد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جبکہ کئی دیگر پروازوں کا اسٹیٹس "نامعلوم" دکھایا جا رہا ہے۔

ایئرپورٹ پر موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ پیر کی شام سے تمام پروازیں اچانک روک دی گئیں اور اب حکام کی جانب سے جمعرات سے پہلے کسی فلائٹ کے آپریٹ ہونے کے امکانات ظاہر نہیں کیے جا رہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر سنّاٹا چھایا ہوا ہے اور بیشتر غیر ملکی پروازوں کے عملے نے بھی ہوائی اڈے کا رخ ترک کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان حکومت کے ایسے اقدامات سے نہ صرف عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بین الاقوامی برادری میں افغانستان کے ساتھ روابط اور سفارتی سرگرمیاں بھی مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ 

مزیدخبریں