حکومتی اتحاد کی کمزوری اور پی ٹی آئی میں پھوٹ: علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان کے تنازع کا انجام کیا ہوگا؟

08:07 PM, 1 Oct, 2025

پاکستان کی سیاسی فضا میں اس وقت بے چینی اور کشیدگی عروج پر ہے۔ حکومتی اتحاد کے اندر موجود اختلافات اور دراڑیں نہ صرف سیاسی استحکام کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی منظرنامے کو بھی پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی اندرونی خلفشار اور اختلافات کا شکار ہے، جو پارٹی کی سالمیت اور مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ایک دوسرے سے ناراض اور ناخوش نظر آ رہی ہیں۔ خاص طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات شدید ہو چکے ہیں۔ اس معاملے نے دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے  اور اب یہ صورتحال سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے.تاہم حال ہی میں  حکومتی اتحاد میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ اتحادی ہونے کے باوجود بعض معاملات پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ملاقات میں ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اتحادی مفاہمت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

 پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے اس بارے میں پریس کانفرنس کی ہےاور کہا  کہ ان کی جماعت نے وزارتیں لیے بغیر نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے حکومت نے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل نہیں کیا۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے کائرہ نے کہا کہ چند روز قبل حکومت کے ساتھ جو مکالمہ شروع ہوا تھا، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم نہیں چاہتے کہ سیاسی صورتحال مزید خراب ہو۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو تنقید میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "تنقید ضرور کریں، مگر وہ الفاظ استعمال نہ کریں جو ماضی میں استعمال ہوتے رہے۔" 

اس بارے میں  گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان  کاکہنا ہے کہ  پیپلزپارٹی پنجاب میں مضبوط عوامی بنیادیں قائم کرکے اسے اپنے لیے قلعہ بنائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ اتحادی ضرور ہیں مگر عزت و وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔گورنر نے کہا کہ سیاست میں تنقید جائز ہے مگر اس کے آداب ہوتے ہیں اور مخالفین کو بھی ان حدود کا احترام کرنا چاہیے۔

جہاں حکومتی اتحاد اپنی پیچیدگیوں کا شکار ہے، وہیں پاکستان تحریک انصاف بھی اندرونی اختلافات کی لپیٹ میں ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر مختلف دھڑے بندی اور قیادت کے تنازعے کی چہ میگوئیاں طویل عرصے سے سننے میں آ رہی تھیں، لیکن علی امین گنڈاپور نے حالیہ ویڈیو بیان کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے اپنی ملاقات کے بعد ایک ایسا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے .اس ویڈیو میں انہوں نے عمران خان کی بہن علیمہ خان پر پارٹی کو ٹیک اوور کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور ساتھ ہی عمران خان کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی قرار دیا ہے۔ یہ بیان پی ٹی آئی کی صفوں میں بغاوت اور انتشار کی گہری نشان دہی کرتا ہے۔
حکومتی اتحاد کی کشیدگی اور پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کی بنیاد پر پاکستان کی سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومتی اتحاد اگر اپنی مشکلات کا حل نہیں نکال سکا تو حکومت کی کارکردگی اور استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی میں جاری اختلافات پارٹی کو تقسیم کی راہ پر لے جا سکتے ہیں، جو سیاسی میدان میں ان کی پوزیشن کو متاثر کرے گا۔
آئندہ کے سیاسی مراحل میں یہ دیکھا جانا ہوگا کہ حکومتی اتحادی اپنی رنجشوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ نیز، پی ٹی آئی میں علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان کے درمیان جاری تنازعہ کا حل کیا نکلتا ہے اور پارٹی کی قیادت کس سمت میں جاتی ہے۔ ان عوامل کا براہِ راست اثر ملک کی سیاسی استحکام، آئندہ انتخابات، اور عوامی اعتماد پر پڑے گا۔

مزیدخبریں