ٹونی بلیئر غزہ کے ممکنہ نگران؟ عراق جنگ کا ماضی عرب دنیا کو آج بھی یاد ہے

09:48 PM, 1 Oct, 2025

لندن / واشنگٹن :سابق برطانوی وزیرِاعظم سر ٹونی بلیئر کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وہ جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی امور میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں ایک عبوری بین الاقوامی ادارے کا تصور شامل ہے، جس کی صدارت خود ٹرمپ کریں گے، جبکہ سر ٹونی بلیئر کو اس ادارے کا حصہ بنانے کی تجویز ہے۔

ٹرمپ نے ٹونی بلیئر کو "بہت اچھا انسان" قرار دیا اور عندیہ دیا کہ ان کی موجودگی اس منصوبے کا حصہ ہو سکتی ہے۔ بلیئر پہلے ہی کئی ماہ سے امریکی، اسرائیلی اور عرب حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔

ٹونی بلیئر نے وائٹ ہاؤس میں سابق صدر ٹرمپ سے ملاقات میں اس امن منصوبے کو "جرأت مندانہ" اور "دو سالہ جنگ کو ختم کرنے کا موقع" قرار دیا تھا۔بلیئر کا ماضی مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم سفارتکار کے طور پر بھی رہا ہے۔ انھیں 2007 میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے "کوارٹیٹ" (امریکہ، روس، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ) کا خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا، تاہم ان کا کردار زیادہ تر معاشی ترقی تک محدود رہا۔

تاہم بہت سے ناقدین ان کے ممکنہ کردار پر تحفظات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر عرب دنیا میں ٹونی بلیئر کا نام آج بھی 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جس کی برطانیہ نے قیادت میں بلیئر کے تحت بھرپور حمایت کی تھی۔ ان پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق جھوٹے دعوؤں پر سخت تنقید کی جاتی ہے، اور بعض حلقے انھیں "جنگی جرائم" کا مرتکب بھی قرار دیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی خصوصی مندوب فرانچسکا البانیز نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: "ٹونی بلیئر؟ بالکل نہیں۔ فلسطین سے دور رہیں۔

حماس کے رہنما حسام بدران نے کہا کہ "بلیئر کو غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بجائے عراق جنگ پر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔" فلسطینیوں کی بڑی تعداد بلیئر کو امریکہ اور اسرائیل کے بہت قریب سمجھتی ہے اور ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

امن عمل کی سابقہ ناکامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ بطور کوارٹیٹ ایلچی، بلیئر فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے، اور ان کی توجہ زیادہ تر معاشی اصلاحات تک محدود رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلیئر کو غزہ میں کوئی کردار دیا جاتا ہے، تو اس کی کامیابی کا دار و مدار کئی عوامل پر ہوگا ،کیا فلسطینی قیادت ان پر اعتماد کرتی ہے؟،کیا وہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے زیرِ اثر نہیں دکھائی دیں گے؟،کیا یہ منصوبہ صرف امریکی یا برطانوی ایجنڈا محسوس نہیں ہوگا؟۔مشرقِ وسطیٰ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل نک ہاپٹن کا کہنا ہے "بلیئر کے پاس تجربہ ہے، تعلقات ہیں، لیکن انہیں فلسطینی قیادت اور عوام کا اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا۔

بعض سفارتکاروں کے مطابق اگر بلیئر کا کردار صرف سفارتی رابطوں تک محدود ہو، تو یہ ممکن ہے۔ تاہم اگر انھیں عملی طور پر غزہ کی سکیورٹی، تعمیر نو اور سیاسی نظم و نسق کا ذمے دار بنایا جاتا ہے، تو یہ ایک بڑا اور متنازعہ فیصلہ ہوگا۔ایک مغربی سفارتکار نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا"وائسرائے بلیئر؟ یہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

مزیدخبریں