سی پی آئی میں کمی،ایس۔ ایم۔ تنویر نے  شرح سود 6 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

09:53 PM, 1 Sep, 2025

لاہور: یو بی جی (یونائیٹڈ بزنس گروپ) کے پیٹرن ان چیف، جناب ایس۔ ایم۔ تنویر نے  کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں نمایاں کمی کے بعد شرح سود کو کم کر کے 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں اس غیرمعمولی کمی نے شرح سود میں کمی کے لیے ملک بھر میں آوازیں بلند کر دی ہیں، جہاں معاشی ماہرین اور کاروباری رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موجودہ بلند شرح سود اب قابل جواز نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنا قابلِ تنقید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل شرح سود (Real Interest Rate) کا فرق بہت زیادہ ہو چکا ہے، جو صنعتی و معاشی ترقی کے لیے خطرناک  ہوچکا ہے۔

ایس۔ ایم۔ تنویر کا کہنا تھا کہ شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جو معیشت کے لیے بے شمار فوائد کا باعث بنے گا، جیسے کہ صنعتی ترقی کی بحالی، روزگار کے مواقع میں اضافہ، برآمدات کی مسابقت میں بہتری،حکومت کے بھاری قرض کے بوجھ میں کمی،سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ وغیرہ ۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے فوری طور پر شرح سود میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان فوری طور پر شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لے آئے۔ یہ قدم نہ صرف صنعتی ترقی کو بحال کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ برآمدات کی مسابقت کو بہتر بنائے گا، حکومت کے 3.5 کھرب روپے سے زائد کے قرض کے بوجھ میں کمی لائے گا اور سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو فروغ دے گا۔

ایس۔ ایم۔ تنویر نے پاکستان بھر کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ایک ترقی پسند اور معقول معاشی پالیسی کا مطالبہ کریں۔
"آئیے ایک مضبوط، اجتماعی آواز بلند کریں تاکہ ایک ایسی معاشی پالیسی کا مطالبہ کیا جا سکے جو عوام کا ساتھ دے، ہمارے کاروبار کو مضبوط کرے اور پاکستان کو ایک خوشحال مستقبل کی جانب لے جائے۔"

انہوں نے کہا کہ جب ملک ایک اہم معاشی سنگ میل منانے جا رہا ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور  سٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود میں کمی کے لیے دی جانے والی درخواستوں پر توجہ دیں گے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اور پوری قوم کی نظریں پالیسی سازوں پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو معاشی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کریں۔

مزیدخبریں