لاہور: پنجاب اسمبلی نے بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
یہ قرارداد حکومتی رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے ایوان میں پیش کی، جس میں بچوں کے تحفظ اور ان کی بہتر جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کو ریاست کی اہم آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب نامناسب اور غیر اخلاقی مواد کم عمر بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
متن کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد تک آسان رسائی کے باعث بچوں میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن سمیت مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کم عمر بچوں کو آن لائن ماحول کے نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کی صحت مند ذہنی اور اخلاقی نشوونما کو یقینی بنایا جاسکے۔