بھارتی جمہوریت کا پردہ چاک: انٹرنیٹ بندش میں بھارت مسلسل پانچویں سال بھی دنیا بھر میں سرفہرست

12:21 PM, 2 Apr, 2026

نئی دہلی/نیویارک: عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ’ایکسز ناؤ‘ (Access Now) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت آمرانہ طرزِ حکومت اپناتے ہوئے انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک کی فہرست میں ایک بار پھر پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں انتہا پسند نظریات اور اندرونی خلفشار کو چھپانے کے لیے ڈیجیٹل ناکہ بندی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
’ایکسز ناؤ‘ کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ کی بندش اب ایک معمول بن چکی ہے۔بھارت میں 12 مختلف ریاستوں اور علاقوں میں بار بار انٹرنیٹ معطل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی حکومت اندرونی خلفشار، تشدد اور مسلح تنازعات کے دوران حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے انٹرنیٹ بند کرنے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر سمیت پنجاب، راجستھان اور منی پور جیسے علاقے انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش کا شکار رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے انتہا پسند نظریات نے ملک کے اندر شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے نسلی اور مذہبی تنازعات کو عالمی سطح پر بے نقاب ہونے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کا سہارا لیا جاتا ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے پر براہِ راست حملہ ہے۔

مزیدخبریں