افغانستان تباہی کے دہانے پر: طالبان رجیم کی نااہلی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی نے ملک کو مفلوج کر دیا

12:46 PM, 2 Apr, 2026

کابل/اسلام آباد: افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو کئی سال گزرنے کے باوجود ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ معاشی بدحالی کے بعد اب افغانستان کا سماجی ڈھانچہ بھی مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق طالبان رجیم کی تمام تر توجہ عوامی فلاح کے بجائے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے پر مرکوز ہے۔
افغان طالبان کی عدم توجہی کی وجہ سے ملک کا نظامِ صحت مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ادویات کی شدید قلت اور طبی عملے کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ہسپتال محض عمارتیں بن کر رہ گئے ہیں۔ بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث بچوں اور خواتین کی شرحِ اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
 طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور پابندیوں کی وجہ سے کئی عالمی طبی اداروں نے افغانستان میں اپنے آپریشنز محدود کر دیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق افغان سرزمین ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے لیے "محفوظ پناہ گاہ" بنتی جا رہی ہے۔  طالبان رجیم کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی سرپرستی نے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سیکیورٹی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ افغان عوام بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں، جبکہ رجیم کا سارا سرمایہ اور توانائیاں عسکریت پسندوں کو منظم کرنے پر صرف ہو رہی ہیں۔معیشت کی تباہی کے ساتھ ساتھ افغان معاشرہ بھی بکھر رہا ہے۔لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی نے ملک کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن نے افغان شہریوں کو اپنے ہی ملک میں قیدی بنا دیا ہے۔
طالبان رجیم کی نااہلی اور دہشت گردی کی طرف رغبت نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ دنیا اب امداد دینے کے بجائے افغانستان کو ایک "سیکیورٹی رسک" کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست معصوم افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مزیدخبریں