نئی دہلی/نیویارک :بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط تائید اور حالیہ دورے نے بھارت کے "غیر جانبدار" ہونے کے تمام دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ عالمی جریدے بلومبرگ اور بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے "انسانیت کے قاتلوں کا مکروہ گٹھ جوڑ" قرار دے دیا ہے۔
بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت، کانگریس کے ترجمان نے مودی کے حالیہ اسرائیلی دورے اور ایران کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں کی حمایت کے تاثر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے حوالے سے مودی کا ردِعمل بھارت کی تاریخی اقدار اور قومی مفادات سے صریح غداری ہے۔ مودی حکومت نے اسرائیل کی اندھی حمایت کر کے بھارت کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کا خمیازہ پوری عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
عالمی معاشی جریدے بلومبرگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مودی کا دوغلا رویہ بھارتی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے بھارت کو تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور سنگین تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کشمیر میں جارحیت جریدے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی خطے میں بھارتی فورسز کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور تشدد کی بھی تصدیق کی ہے، جسے اسرائیلی طرزِ عمل کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ "یہود و ہنود" کا یہ انتہا پسندانہ گٹھ جوڑ صرف طاقت کے بے دریغ استعمال پر یقین رکھتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مودی کی اسرائیل نوازی ثابت کرتی ہے کہ بھارت کسی بھی ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے اور اس کا یہ دوغلا رویہ خود اسرائیل کے لیے بھی جلد ایک "بھیانک حقیقت" بن کر سامنے آئے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی کی ان پالیسیوں نے خطے کو ایک بار پھر وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں مسلم نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کو ریاستی سرپرستی حاصل ہو رہی ہے۔
یہود و ہنود گٹھ جوڑ: مودی کی اسرائیل نواز پالیسی پر عالمی جریدے اور بھارتی اپوزیشن کی کڑی تنقید
01:25 PM, 2 Mar, 2026