دبئی/ تہران :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے ایران کے ساتھ اپنے تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور تہران میں اپنا سفارت خانہ فوری طور پر بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ بڑا فیصلہ ایران کی جانب سے حالیہ حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحیت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ یو اے ای نے تہران سے اپنے سفیر کو فوری طور پر وطن واپس بلا لیا ہے۔
ایران میں اماراتی سفارت خانے کے تمام آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں، جسے ماہرین دونوں ممالک کے تعلقات میں دہائیوں کی سب سے بڑی دراڑ قرار دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے اس بڑے اقدام کے ساتھ ہی سعودی عرب نے بھی تہران کو سخت پیغام بھیجا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے حالیہ حملوں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خطے کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایران کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیجی ممالک کے ان اقدامات سے ایران عالمی سطح پر مزید سفارتی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یو اے ای اور سعودی عرب کے یہ سخت فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب ممالک اب ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی یا سائبر مہم جوئی پر خاموش نہیں رہیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑا سفارتی بحران: متحدہ عرب امارات کا ایران سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان
12:56 PM, 2 Mar, 2026