اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں استحکام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ گھریلو صارفین کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام اصلاحات عوامی و صنعتی مفاد کو مدنظر رکھ کر کی جائیں گی۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت توانائی شعبے میں اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خزانہ، اقتصادی امور، اطلاعات، توانائی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو گھریلو صارفین اور صنعتوں کے لیے بجلی کی کھپت سے متعلق اہم سفارشات پیش کی گئیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو صارفین کو بلوں کی ادائیگی میں آسانی فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کو فروغ دیا جائے تاکہ صارفین کو قطاروں میں نہ لگنا پڑے۔
وزیراعظم نے بجلی کی ترسیل کے نظام (Transmission System) کو جدید بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لائن لاسز میں نمایاں کمی لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناگزیر قرار دیا تاکہ نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔
بجلی چوری کے حوالے سے وزیراعظم کا موقف انتہائی سخت تھا، انہوں نے ہدایت کی کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات میں کوئی نرمی نہ برتی جائے۔ چوروں کا بوجھ عام شہری پر نہیں ڈالنے دیں گے۔توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیراعظم نے قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے منصوبوں کو ترجیح دینے کا حکم دیا تاکہ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کی جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ توانائی شعبے کی اصلاحات کا محور صرف اور صرف عوام کی فلاح ہونا چاہیے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔