نواز شریف کی حالیہ تقریر کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، اہم نام سامنے آ گئے

09:34 PM, 2 Oct, 2020

لاہور: نیو نیوز کے پروگرام جمہور میں گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈر )ر( فاروق حمید نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا اس وقت نواز شریف فوج کے بارے میں جو بات کر رہے ہیں وہ پہلی دو تقریروں سے مختلف تھیں کیونکہ اُس وقت شاید وہ اپنے دل کی باتیں کر رہے تھے لیکن پھر بعد میں انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں آپ پوری فوج کو ٹارگٹ نہ کریں سارے فوجی جوان اور افسر آپ کے خلاف ہو جائیں تو پھر تو آپ کا پاکستان میں گزارا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا میاں نواز شریف کو یہ مشورہ دیا گیا جیسے ایم کیو ایم کے بانی کرتے تھے آپ بھی ویسے کریں، ان کی تقریر کے پیچھے چار لوگ ہیں جن میں حسین حقانی جو امریکا میں بیٹھے ہوئے اور سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی بھی اس وقت لندن میں ہیں جبکہ پاکستان سے سینیٹر پرویز رشید اور مریم نواز کا ہاتھ بھی ان کی تقریروں میں ہے وہ ہی یہ چیزیں بتا رہے ہیں کہ وہ فوج کے خلاف کونسی بات کریں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے نواز شریف فوج کے پورے ادارے کو نشانہ بناتے تھے لیکن اب انہوں نے اس میں تبدیلی کی ہے کیونکہ ان چاروں لوگوں نے انہیں بتایا کہ اگر پورے ادارے کے خلاف بات کریں گے تو پھر ان کو بہت زیادہ مشکل ہو گی، اب نواز شریف نے اپنی تقریر میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے کہ انہیں فوج کے چند لوگوں سے مسئلہ ہے اور پاک فوج کے جوان جو سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ 

بریگیڈر )ر( فاروق حمید سے پروگرام کے میزبان فرید رئیس کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ نواز شریف کا بھارت سے کیا تعلق ہے اور کیا وہ الطاف حسین کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف ایم کیو ایم کے بانی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ اس وقت بھارت اور را خوش ہو گی کہ جب ایک اور الطاف حسین پیدا ہو گیا جو لندن سے بیٹھ کر پاکستان کی آرمی کو نشانہ بنائے گا اور پاکستان کی آرمی کے اندر حالات خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ خوش ہو گی کہ نواز شریف کی وجہ سے پاکستان کے سول اور ملڑی تعلقات خراب ہوں گے۔ 

شہباز شریف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بریگیڈر )ر( فاروق حمید نے کہا نواز شریف کے بھائی شہباز شریف تو اس وقت خوش ہیں کہ وہ جیل میں کیونکہ وہ اس وقت لڑائی کے موڈ میں نہیں ہیں اور نہ ہی وہ موجودہ صورتحال میں ٹکراو کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ 

مزیدخبریں