یروشلم/غزہ/اسلام آباد : اسرائیلی افواج نے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والی "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر حملہ کر کے 37 ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا، جن میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق یہ بحری قافلہ 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل تھا، جن میں خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان موجود تھا۔ فلوٹیلا میں شامل تقریباً 500 افراد میں اراکینِ پارلیمنٹ، وکلاء، اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن شامل تھے، جن کا مقصد غزہ کے شہریوں تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کو پرامن طور پر چیلنج کرنا تھا۔
فوجی کارروائی اور گرفتاریاں
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ کی تقریباً 20 جنگی کشتیوں نے فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔ بعض کشتیوں پر پانی کی توپیں (واٹر کینن) استعمال کی گئیں جبکہ سوار افراد کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار افراد کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے اور بعدازاں ملک بدر کر دیا جائے گا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سینیٹر مشتاق احمد کر رہے تھے
پاکستان سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان فلوٹیلا میں شامل پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں اسرائیلی فوج نے ایک کشتی پر چڑھائی کے دوران حراست میں لیا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مبصر، سید عذیر نظامی، مبصر کشتی پر موجود تھے اور انہوں نے سینیٹر مشتاق کے جہاز پر اسرائیلی کارروائی کی براہِ راست اطلاع دی۔
بین الاقوامی ردِعمل
اسرائیلی حملے کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترکیہ نے اس کارروائی کو "دہشت گردی" قرار دیا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گرفتار کارکنوں کے فوری تحفظ اور رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے اسرائیلی ناکہ بندی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر عام شہری چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غزہ کے قریب پہنچ سکتے ہیں، تو دنیا کی جدید بحری افواج کیوں خاموش ہیں؟
دنیا بھر میں احتجاج
فلوٹیلا پر حملے کے بعد اسپین، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا اور ترکی سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ استنبول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے شہریوں نے جمع ہو کر اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی آج دوپہر نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس کی کال پاک-فلسطین فورم نے دی ہے۔
مشکل کے باوجود مشن جاری
ترجمان فلوٹیلا کے مطابق، اگرچہ کئی جہازوں کو روکا جا چکا ہے، مگر تقریباً 30 کشتیوں پر مشتمل امدادی قافلہ اب بھی غزہ کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے باوجود مشن جاری رہے گا۔