اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی ابتدائی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ درخواست گزار حافظ احتشام احمد نے موقف اپنایا کہ ایمان مزاری کی جانب سے ججز کے بارے میں ایسا تاثر دیا گیا ہے کہ عدالت میں تقسیم پائی جاتی ہے اور ججز پر دباؤ ہے، جو عدالت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کی باتوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کوئی تقسیم نہیں ہے اور ججز کی عزت نفس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی عزت نفس کو نقصان پہنچانے والے بیانات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ کے ججز کی طرف سے کوئی شکایت تو نہیں آئی، جبکہ درخواست گزار نے کہا کہ ایمان مزاری نے راولپنڈی کی ضلعی عدالت کے ججز پر پریشر کی بات کی ہے، جسے عدالت نے معمولی بات قرار دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ آزادی اظہار رائے کو تسلیم کیا جاتا ہے، مگر عدالت کی ساکھ اور ججز کی عزت کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔