لاہو ر: پاکستان میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ انڈس واٹر کمیشن کی بجائے غلط طریقے سے سیلاب کے بارے میں آگاہی دی گئی، جس کے نتیجے میں راوی، ستلج اور چناب ندیوں میں 5 ستمبر تک شدید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیلاب سے اب تک پنجاب کے 24 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 9 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ہزاروں بستیاں زیر آب آ چکی ہیں جبکہ فصلیں اور مال مویشی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ملتان میں دریائے چناب کے مقام ہیڈ محمد والا پر چار لاکھ پچاس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلہ داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر بریچنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سیلابی ریلے کی وجہ سے جھوک وینس سے ہیڈ محمد والا تک سینکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور وہاں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دریائے چناب کے قریب بند بوسن میں سیلاب کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑ گئی ہے اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں سکولوں تک پانی پہنچ چکا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
دریائے ستلج میں ہری کے اور فیروزپور پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔ قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفر گڑھ کے اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ انتہائی اونچے درجے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث ہزاروں بستیاں، فصلیں اور رابطہ سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں۔
سیلابی ریلا تاندلیانوالہ سے کمالیہ تک پہنچ چکا ہے جہاں کئی دیہات اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ مین جی ٹی روڈ لاہور سے فیصل آباد تک ٹوٹ گئی ہے، جس سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا اور لاہور، فیصل آباد اور ملتان جانے والی تمام ٹریفک مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق چنیوٹ میں سیلاب سے 141 دیہات اور دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ ملتان میں دریائے چناب کے قریب کئی بستیاں زیر آب ہیں۔
سندھ میں سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ کچے علاقوں کے لوگ حفاظتی اقدامات کے باوجود اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
قومی انسداد پولیو پروگرام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیو اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ سے ہوتے ہوئے جھنگ میں داخل ہو چکا ہے جہاں تقریباً 200 دیہات زیر آب آ چکے ہیں، ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں اور 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملتان میں دریائے چناب کے قریب ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنا مائٹ نصب کر دی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر ڈیم میں شگاف ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ شہر کو سیلاب سے بچایا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے راوی، چناب اور ستلج میں 5 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
دریاؤں کے بہاؤ کے اعداد و شمار کے مطابق:
ہیڈ تریموں پر بہاؤ 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ پر بہاؤ 54 ہزار کیوسک، شاہدرہ پر 60 ہزار اور بلوکی ہیڈورکس پر 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک اور سلیمانکی پر 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ پر 96 ہزار، خانکی ہیڈورکس پر 1 لاکھ 20 ہزار اور قادر آباد پر 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ہے۔
ریلیف کمشنر کے مطابق بارشوں کے باعث بالآلی علاقوں میں دریاؤں کا بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔