بھارت میں برہمنوں کی کم آبادی کے باوجود کلیدی عہدوں پر غالب نمائندگی

02:55 PM, 2 Sep, 2025

نئی دہلی: بھارت میں برہمن، جو صرف 3 سے 5 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، سیاسی، عدالتی اور بیوروکریٹک اداروں میں اپنی تعداد سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ اور نمائندگی رکھتے ہیں۔ یہ انکشاف ایک حالیہ انفوگرافک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس نے ملک کے اقتداری ڈھانچے میں ذات پات پر مبنی تفاوت کو اجاگر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ برہمن برادری عددی طور پر اقلیت میں ہے، لیکن ملک کے اعلیٰ ترین مناصب—بشمول صدر، وزیرِاعظم، سپریم کورٹ کے جج صاحبان، اعلیٰ بیوروکریٹس اور سفارت کاروں پر ان کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ ماہرین اس صورتِ حال کو "برہمنوکریسی" (Brahminocracy) سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی ایسا نظام جس میں اقتدار کی باگ ڈور مسلسل ایک مخصوص ذات کے ہاتھ میں رہتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف جمہوری اصولوں سے انحراف ہے، بلکہ یہ ذات پات پر مبنی ساختی عدم مساوات اور تاریخی مراعات کا تسلسل بھی ہے، جو نچلی ذاتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ترقی کے مواقع محدود کرتا ہے۔

سماجی انصاف کے علمبرداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات متعارف کرائے تاکہ اقتدار میں حقیقی شراکت داری ممکن ہو سکے اور بھارت کا جمہوری ڈھانچہ ذات پات سے بالاتر ہو کر سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے۔

یہ رپورٹ ملک میں جاری ذات پات پر مباحثے کو ایک نئی جہت فراہم کر رہی ہے، جس کے سیاسی اور سماجی اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

مزیدخبریں