خیبر پختونخوا:ملک کے مختلف حصوں میں غیر معمولی سیلاب کے باعث پانی آلودہ ہونے اور کیڑوں کی بڑھتی ہوئی افزائش کی وجہ سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس پر قومی ادارہ صحت نے خبردار کرتے ہوئے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ادارے کے مطابق سیلابی پانی کے باعث ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ساتھ ہی پانی میں جمع ہونے والے پانی میں مچھر بھی زیادہ تعداد میں پیدا ہو رہے ہیں، جس سے مچھروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی صحت کے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں سانس کی بیماریوں کے نئے کیسز کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، سیلاب کے بعد سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح، متاثرہ علاقوں میں آنکھوں کی انفیکشنز کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ 11 اضلاع میں ایبٹ آباد، باجوڑ، بونیر، بٹگرام، دیر، مانسہرہ، سوات، شانگلہ، صوابی، تورغر اور بنوں شامل ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیر صحت عمران نذیر نے قصور کا دورہ کیا اور دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرین سے ملاقات کی جہاں انہیں ڈپٹی کمشنر عمران علی، ڈی پی او محمد عیسیٰ اور دیگر افسران نے امدادی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ متاثرین کی مشکلات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے فوری اقدامات کریں۔