لاہور کے 10 ہسپتالوں میں ویکسین رشتہ داروں اور بااثر افراد کو لگائے جانے کا انکشاف

لاہور کے 10 ہسپتالوں میں ویکسین رشتہ داروں اور بااثر افراد کو لگائے جانے کا انکشاف
کیپشن: لاہور کے 10 ہسپتالوں میں ویکسین رشتہ داروں اور بااثر افراد کو لگائے جانے کا انکشاف
سورس: file

لاہور : لاہور کے سرکاری ہسپتالوں سے کورونا ویکسین غائب ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید 7 سرکاری ہسپتالوں کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرکے2 ہزار سے زائد خوراکوں میں خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ 10 بڑے ہسپتالوں نے ویکسین رشتہ داروں اور بااثر افراد کو لگائی۔

نیو نیوز کے مطابق گنگارام 110، شاہدرہ 90، جنرل 73، میو55، یکی 30، کوٹ خواجہ 40، گلاب دیوی 25خوراکوں کا ریکارڈ غائب ہے۔محکمہ صحت کی جانب سے شہر کے 25 سنٹرز میں 56 ہزار ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں۔

محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 47 ہزار ویکسین کی خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔  گنگارام ہسپتال میں 110 سے زائد کورونا ویکسین کی خوراکوں میں مبینہ غبن ہوا۔

شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال میں 90 سے زائد کورونا ویکسینز کا مبینہ ریکارڈ غائب ہوگیا۔جنرل ہسپتال میں مبینہ طور پر 73 میو ہسپتال میں 55کورونا ویکسین کی خوراکیں خوردبردکی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر یکی گیٹ ہسپتال میں 30، کوٹ خواجہ سعیدہسپتال 40 ، گلاب دیوی ہسپتال 25 کورونا ویکسین کی خوراکیں غائب ہوگئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ 10بڑے ہسپتالوں نے کورونا ویکسین رشتے داروں اور با اثر افراد کو لگائی۔

محکمہ صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ لاہور کے 25ہسپتالوں کو طبی عملے کیلئے کورونا ویکسین کی خوراکیں مہیا کی گئی تھیں،بعض اوقات سسٹم میں ریکارڈ کو اپ لوڈ نہیں کیا جاتا،تاہم تمام ہسپتالوں سے کورونا ویکسین کا ریکارڈ مانگ لیاہے ۔ خوراکیں غائب اور خراب ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کررہے ہیں۔

 یاد رہے کہ اس سے قبل جناح ہسپتال 600سے زائد ،سروسز سے 550 خوراکیں غائب ہوچکی ہیں ،مزنگ ہسپتال میں 350 کورونا ویکسین کی خوراکیں درجہ حرارت کی وجہ سے خراب ہوئیں ۔

 اس حوالےسے ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے کہ سروسز ہسپتال میں 56 سو ویکسین کی خوراکیں آئی تھیں،200کے قریب ویکسین کا سٹاک رہ گیا ہے۔ آڈٹ ٹیم اپنی تحقیقات کر رہی ہے۔

 ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال کو مہیا کی گئی تمام 3849 ویکسین لگ چکی ہیں،اب ہمارے پاس کوئی ویکسین نہیں ۔اس معاملہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پہلے ہی نوٹس لے رکھا ہے اورمحکمہ صحت سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔