لاہور : آج ملک بھر میں شبِ برات نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ یہ رات مسلمانوں کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتی ہے اور اس موقع پر مساجد اور گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جائے گا۔ لوگ نفل عبادات، قرآن خوانی، اور دعاؤں میں مصروف رہیں گے۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہ رات بہت زیادہ رحمتوں اور برکتوں والی ہے، جب اللہ کی بے شمار رحمتیں اپنے بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔
ربِ کریم کی رحمت ہر وقت اپنے بندوں پر جاری رہتی ہے، لیکن شبِ برات میں خاص طور پر یہ دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کی معافی کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور وہ اس رات کی عبادت سے اپنی بخشش حاصل کر سکتے ہیں۔
علمائے کرام کہتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات بے شمار فضائل کی حامل ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بندوں کا سال بھر کا رزق، زندگی اور موت کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ اس رات میں کی جانے والی عبادات کی فضیلت بہت زیادہ ہے اور یہ رات اللہ کے قریب جانے کا خاص موقع فراہم کرتی ہے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ اس رات کو "لیلۃ المبارکہ" یعنی بابرکت رات کہا جاتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اس رات میں قیام کرنا اور دن کو روزہ رکھنا بہت بڑا اجر ہے۔ یعنی 15 ویں شب کو عبادت میں گزارنا، نماز پڑھنا اور اللہ کی بارگاہ میں اپنے اعمال پیش کرنا بہت اہم ہے۔
شبِ برات کی عبادات میں توبہ، مغفرت کی دعائیں، اور اپنی زندگی کے لیے خیر و برکت کی تمنائیں کی جاتی ہیں۔ اس رات کا مقصد صرف عبادت نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت سے خود کو پاک اور معاف کروانا ہے۔