اسلام آباد/نیویارک : پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سربراہی ملنا نہ صرف ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے بلکہ بھارت کے لیے ایک بڑا جھٹکا بھی ثابت ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی پالیسیوں ، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کو اقوام متحدہ کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا نائب چیئرمین بھی منتخب کیا گیا تھا، اور اب سلامتی کونسل کی صدارت ملنا پاکستان کے لیے دوہری کامیابی ہے۔ اس پیش رفت نے بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار نے نہ صرف دنیا میں اس کی ساکھ مضبوط کی ہے بلکہ بھارت کے اندر بھی سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ بی جے پی کی حکومت کو کانگریس کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق مودی سرکار نے فوجیوں اور عوام کی قربانیوں کو نظرانداز کیا اور صرف پروپیگنڈے میں وقت ضائع کیا۔
اسی طرح کانگریس کی رہنما رینیکا چودھری نے بھی مودی حکومت پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "151 غیرملکی دورے، 72 ممالک، بے شمار ملاقاتیں لیکن نتیجہ صفر! دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں، اور مودی حکومت محض بیانات دے رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "آپریشن سندور" کو انسداد دہشت گردی مہم کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن عالمی سطح پر وہ جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ دنیا نے اس مہم کو مسترد کر دیا ہے اور بھارت کی سفارتی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا دنیا بھر میں بڑھتا ہوا کردار، متوازن خارجہ پالیسی، اور سنجیدہ سفارت کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکی ہے، جب کہ مودی حکومت کی الزام تراشی اور جھوٹے بیانیے کی سیاست خود بھارت کو تنہائی کی طرف لے جا رہی ہے۔