ایران-اسرائیل سیزفائر میں وزیراعظم پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی

12:08 PM, 3 Jul, 2025

اسلام آباد :  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان سیزفائر میں وزیراعظم پاکستان کا اہم کردار ہے، اور اس تاریخی جنگ بندی کے پیچھے پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی بھی کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی کامیابی پر پاکستان کو فخر ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے یہ بات محرم الحرام کے حوالے سے علما کرام کے ساتھ اجلاس کے دوران کہی، جس میں ملک بھر سے مختلف مکاتبِ فکر کے جید علما شریک ہوئے۔ ان کے ہمراہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسینؓ تمام مسلمانوں کے مشترکہ ہیرو ہیں، اور محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور علما کرام نے ہمیشہ امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت کو 4 گنا زیادہ نقصان پہنچایا، سویلین کو نشانہ نہیں بنایا: محسن نقوی
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارت کو بھرپور جواب دیا۔ بھارتی میزائل اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جبکہ پاکستان کا جوابی وار بھارتی آئل ڈپو کو لگا، لیکن سویلین آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔  محسن نقوی نے کہا کہ "ہم نے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا، جبکہ بھارت نے 4 گنا زیادہ نقصان برداشت کیا"۔

دہشت گردی کے خلاف علمائے کرام کا کردار ناگزیر: طلال چوہدری
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ ملک بھر میں علما نے اپنا قومی فریضہ بخوبی نبھایا ہے اور اب دہشت گردی کے خاتمے میں ان کا کردار مزید اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی فرقہ وارانہ نفرت یا دشمن کے ایجنڈے کا شکار نہیں ہونا، بلکہ متحد ہوکر امن کا پیغام دینا ہے۔

پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا: مولانا عبدالخبیر آزاد
اجلاس میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اور "آپریشن بنیان المرصوص" میں کامیابی اللہ کی مدد سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کو بھرپور جواب دیا اور اس عالمی تنازع میں پاکستان کا کردار روشن اور قابلِ فخر ہے۔

 "اپنے مسلک کو چھوڑو مت، کسی کے مسلک کو چھیڑو مت"
مولانا عبدالخبیر نے کہا کہ دشمن بہت عیار ہے، اس لیے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ "اپنے مسلک کو چھوڑو مت اور کسی کے مسلک کو چھیڑو مت" کا پیغام دے کر انہوں نے بین المسالک ہم آہنگی پر زور دیا۔

مزیدخبریں