بھارت کے آبی اقدامات ، شہریوں کو نشانہ بنانا ، الزام تراشی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں ، بلاول بھٹو

11:44 AM, 3 Jun, 2025

نیوویب ڈیسک

نیویارک: پاکستان کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد نے اقوام متحدہ اور عالمی سفارتی حلقوں کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش، پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا، اور جھوٹے الزامات لگانا جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب ڈورتھی شیا سمیت دیگر اہم عالمی نمائندوں سے ملاقات کی۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ امن کا راستہ صرف بات چیت اور سفارتکاری ہے، اور پاکستان اس حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے امریکا سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا مطالبہ کیا، اور بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

او آئی سی اور اقوام متحدہ کے نمائندوں سے بریفنگ
وفد نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سفیروں کو بھی بھارتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ او آئی سی نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور علاقائی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ پانی کی بندش سے پاکستان میں قحط، ماحولیاتی تباہی اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ طرزِ عمل معمول بن گیا تو خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں رہے گا۔

سلامتی کونسل کے ارکان سے ملاقاتیں
وفد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب ارکان چین، روس، جاپان، جنوبی کوریا، سلووینیا، الجزائر، یونان، ڈنمارک اور دیگر ممالک کے نمائندوں سے علیحدہ ملاقاتیں کیں، اور بھارتی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بغیر تحقیق پاکستان پر الزام تراشی قابلِ مذمت ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ صرف تنازع کے بعد نہیں، بلکہ تنازع سے پہلے اقدامات اٹھائے تاکہ خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔ وفد جلد ہی واشنگٹن، لندن اور برسلز کا بھی دورہ کرے گا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مزید مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔

مزیدخبریں