افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ: عالمی برادری کا 'ریڈ الرٹ'، یورپی یونین کا سخت ترین مطالبہ

12:51 PM, 3 Mar, 2026

برسلز / کابل: افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور پراکسی نیٹ ورکس کی موجودگی پر عالمی تشویش میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ افغان سرزمین ایک بار پھر عالمی اور علاقائی دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات اب پورے خطے پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
یورپی یونین نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ یورپی یونین کے اعلامیے میں کہا گیا ہے   افغانستان میں سرگرم تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ عالمی امن کو افغان سرزمین سے جنم لینے والے خطرات سے بچانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
حالیہ عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں درج ذیل خطرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔  افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروپوں کو منظم ہونے اور محفوظ ٹھکانے بنانے کی سہولت میسر ہے۔ان گروہوں کی موجودگی سے نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کی سکیورٹی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
 کابل میں موجود عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے سے انتہا پسندی کے عالمی نیٹ ورکس مضبوط ہو رہے ہیں۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے ان گروہوں (جیسے فتنہ الخوارج اور دیگر) کی سرپرستی بند نہ کی، تو افغانستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی تنہائی اور سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزیدخبریں