فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

02:31 PM, 3 Nov, 2025

لاہور: پاکستانی فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے 12 برس ہو گئے ہیں، مگر ان کی گائی گیتوں کا سحر آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ ’’بلبلِ صحرا‘‘ کے نام سے مشہور ریشماں کی آواز نے پاکستان کی موسیقی کی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنائی تھی۔ ان کا گایا ہوا ’’گلِ صحرائی‘‘ اور ’’لمبی جدائی‘‘ جیسے گیت آج بھی شائقین کے دلوں میں تازہ ہیں۔

ریشماں 1947 میں راجستھان (بھارت) میں پیدا ہوئیں، اور تقسیم برصغیر کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے بچپن ہی سے صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا تھا۔ انہیں کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل نہیں تھی، لیکن ان کی قدرتی آواز اور سروں کا جادو ہر کسی پر اثر انداز ہوتا تھا۔ ایک موقع پر، جب وہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر گاتی ہوئیں سلیم گیلانی کے سامنے آئیں، تو انہیں ریڈیو پاکستان پر گانے کا موقع ملا۔ اس کے بعد 12 سال کی عمر میں ہی ریشماں نے ریڈیو پاکستان سے اپنی کیریئر کا آغاز کیا۔

1960 کی دہائی میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا، تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانے شروع کر دیے۔ ان کی آواز نے انہیں پاکستانی فلموں کے گانے گانے کا موقع بھی دیا، اور وہ فوراً شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، اور ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘ شامل ہیں۔ ان کی آواز کا جادو سرحدوں کے پار بھی چھایا، اور بھارت کے موسیقی کے شائقین بھی ان کے گیتوں سے محظوظ ہوئے۔

ریشماں کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور ’’لیجنڈز آف پاکستان‘‘ جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ تاہم، ان کی زندگی کا یہ سفر 3 نومبر 2013 کو ختم ہوا جب وہ گلے کے کینسر کے باعث لاہور میں انتقال کر گئیں۔

مزیدخبریں