پاکستانی ڈرامے اور کزن میرج: حقیقت کی عکاسی یا سماجی ترویج؟

05:02 PM, 3 Nov, 2025

پاکستانی ڈراموں میں کزن میرج کا موضوع بارہا سامنے آتا رہا ہے، اور حالیہ ڈرامہ سیریل ’بریانی‘ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ڈرامے میں مرکزی کردار گُل مہر اپنے فرسٹ کزن اور شوہر میر میران سے کہتی ہیں ’’دادا سائیں اور ان کی بیوی چچازاد تھے، ان کے ماں باپ کزنز تھے۔‘‘ یہ مکالمہ نہ صرف خاندانی تعلقات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستانی سماج میں کزن میرج کے رواج کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈرامے کو مختلف انداز میں دیکھا گیا۔ کچھ صارفین نے اسے حقیقت پسندانہ اور دلچسپ قرار دیا، جبکہ دیگر نے کزن میرج کے دفاع میں تبصرے کیے۔ ماہرین اور ڈرامہ ساز اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ یہ موضوع سماج کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اسے ڈراموں میں بار بار دکھانا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو تہائی شادیوں میں کزنز شریک ہوتے ہیں۔ گیلپ کے ایک سروے کے مطابق 15 سے 29 سال کی خواتین کی نصف شادیاں فرسٹ کزن کے ساتھ ہوتی ہیں۔ طبی محققین نے خبردار کیا ہے کہ کزن میرج کے بچوں میں سسٹک فائبروسس، سکل سیل اور دیگر جینیاتی مسائل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈرامہ ساز مہرین جبار اور مصنفہ آمنہ مفتی کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں کزن میرج کو کم دکھانا چاہیے تاکہ صحت اور سماجی مسائل پر شعور پیدا ہو۔ نیٹ ورک کی صدر سلطانہ صدیقی بھی اس مسئلے پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرامے معاشرتی عکاسی کے لیے اہم ہیں، لیکن انہیں ایسے موضوعات کو معمول کے رواج کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈراموں کے ذریعے شعور پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی بار بار نمائش سماجی اور طبی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

مزیدخبریں