اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ غزہ امن معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکات سامنے آنے سے پہلے ہی وزیراعظم نے ان نکات کا خیرمقدم کیا، جبکہ فلسطین، اسرائیل اور پاک سعودی عرب سے متعلق اہم معاملات پر پارلیمنٹ اور دیگر قومی اداروں سے مشاورت نہیں کی گئی۔
اسد قیصر نے خبردار کیا کہ اہم فیصلے پردے کے پیچھے طے کیے جا رہے ہیں اور انہیں عوام کے نمائندوں سے چھپایا جا رہا ہے، جو جمہوری عمل کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی رائے کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جا سکتا اور فلسطینیوں کی توہین پر اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو معافی مانگنی چاہیے۔
ان کے اس بیان نے قومی اسمبلی میں گھن گرج مچا دی اور حکومت کو مطالبہ کیا کہ وہ شفافیت اور پارلیمانی مشاورت کو یقینی بنائے تاکہ عوام کے نمائندے اپنے ملک کے حساس معاملات پر بھرپور کردار ادا کر سکیں۔