تحریر : وجیہہ تمثیل مرزا
عالمی صمود فلوٹیلا (عزمِ صمود کواس طرح سے بھی جانا جاتا ہے) ایک بین الاقوامی سول سوسائٹی مہم ہے جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی بلاک کے خلاف آواز اٹھانا اور وہاں کے عوام کو انسانی امداد پہنچانا ہے۔ یہ مہم تقریبا ۵۰ جہازوں اور تقریباً ۵۰۰ رضا کاروں پر مشتمل یے جنہوں نے دنیا کے مختلف ملکوں سے سفر کا آغاز کیا ہے۔
مہم کا آغاز اگست ۲۰۲۵ کے آخر میں ہوا، جہاں سے مختلف کنوائے بحری راستوں سے روانہ ہوئے، جن میں اسپین (بارسلونا)، اٹلی (جینووا، کاتانیا)، اور تونس شامل تھے۔
اس پہ بہت سارے رضاکار، ماہرینِ طبی، صحافی، اور بین الاقوامی کارکن شامل تھے جن کا مقصد ابتدائی طور پر امدادی سامان (خوراک، دوائیں وغیرہ) غزہ پہنچانا تھا، مگر بنیادی مقصد بلاکڈ سمندری راہداری قائم کرنا بھی تھا۔
فلوٹیلا کے جہازوں نے سفر کے دوران کئی خطرات کا سامنا کیا ہے۔ تونس میں ایک اہم جہاز کو ڈورن حملہ کے شہبات کے تحت آگ لگی، اگرچہ بعض حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ اندرونی آگ تھی۔
سمندر میں ڈرونز، غیر شناخت شدہ بحری جہاز اور اسرائیلی نیوی کے جہاز جنہوں نے مواصلاتی نظام بند کرنے کی کوششیں کیں ہیں۔
کئی ممالک نے فلوٹیلا کی حفاظت اور انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش ظاہر کی، بشمول پاکستان، ملائشیا اور دیگر کہ۔
جیسے ہی فلوٹیلا غزہ کے قریب آئیں، اسرائیلی بحریہ نے روک تھام شروع کر دی۔
اسرائیلی نیوی نے بیشتر جہاز کو بحیرۂ متّحدہ میں انٹرسیپٹ کیا، اور بعض جہازوں پر قبضہ کیا گیا۔
رابطے منقطع کرنے کی کوششیں کی گئیں، اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کچھ جہاز مارکو بلاک کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امداد مقامی بندرگاہ پر اتارنے کی تجویز دی، مگر وہ براہِ راست غزہ پہنچنے پر بضد ہیں۔
پاکستان سمیت تقریباً پندرہ ممالک نے فلوٹیلا کی امدادی مشن کی حفاظت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اپیل کی ہے۔
ماہرینِ بین الاقوامی قانون یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اسرائیل کا بلاکڈ ایک قانونی اقدام ہے یا یہ انسانی حقوق اور سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
اب کی صورتحال یہ ہے کہ بیشتر جہاز اسرائیلی ناکہ بندی کی زد میں آچکے ہیں، چند جہاز ابھی بھی رہ گئے ہیں جو موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ وہ غزہ تک پہنچیں گے۔
فلوٹیلا نے صرف امداد پہنچانا ہی نہیں بلکہ ایک عالمی مظاہرہ کیا ہے کہ دنیا کی ناداری اور انسانیت کے حق کی آواز کتنی اہم ہے۔ اگرچہ مشکلات بہت ہیں۔ بحری خطرات، قانونی معرکے، سیاسی دباؤ، مگر یہ مہم ثابت کرتی ہے کہ عالمی انسانی شعور اور عزم کی طاقت کو کم نہ سمجھا جائے۔
نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے
وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔