انگلینڈ کے سابق کپتانوں لیسٹر کک اور مائیکل وان کی ٹیسٹ کرکٹ کے قوانین میں تبدیلیوں کی تجویز

01:04 PM, 3 Sep, 2025

لندن: انگلینڈ کے سابق کپتانوں الیسٹر کک اور مائیکل وان نے ٹیسٹ کرکٹ کو مزید بہتر اور متحرک بنانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔

الیسٹر کک نے نئی بال کے قانون میں نرمی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈنگ ٹیم کو 160 اوورز کے دوران کسی بھی وقت نیا بال لینے کی اجازت ہونی چاہیے، چاہے وہ 30 اوورز کے بعد ہی کیوں نہ لینا چاہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے بولرز کو 20 وکٹیں لینے کا زیادہ موقع ملے گا اور کھیل میں توازن بہتر ہوگا۔

دوسری جانب مائیکل وان نے متبادل کھلاڑیوں (سبسٹیٹیوٹس) کے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون صرف "کنکشن" یعنی دماغی چوٹ کے متبادل تک محدود ہے، لیکن یہ اصول دیگر انجریز پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کھلاڑی کو فیلڈنگ کے دوران چوٹ لگتی ہے اور وہ میدان سے باہر چلا جاتا ہے، تو اُسے بیٹنگ کے لیے واپس آنا درست نہیں۔ وان نے بھارتی کھلاڑی رشبھ پنت کا حوالہ دیا جنہیں حالیہ سیریز میں انجری کے باوجود بیٹنگ کا موقع ملا۔

اس کے علاوہ مائیکل وان نے مزید کہا کہ دوسرے کھیلوں میں مکمل متبادل کھلاڑیوں کی اجازت ہوتی ہے، تو کرکٹ میں بھی ایسی سہولت ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ ایسی صورتحال میں ایک غیر جانب دار ڈاکٹر کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے تاکہ انجری کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

مزیدخبریں