کابل/اسلام آباد: افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا ایک اور گھناؤنا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ افغان میڈیا آؤٹ لیٹ "آماج نیوز" کی رپورٹ کے مطابق، شمالی افغانستان میں دہشت گرد گروہ 'فتنہ الخوارج' (ٹی ٹی پی) کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی مہم میں تیزی لائی گئی ہے، جس کا براہِ راست ہدف پاکستان کی سلامتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ فنڈنگ مہم اب باقاعدہ ایک منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔ شمالی افغانستان کے مختلف علاقوں میں مقامی باشندوں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج کے جنگجوؤں کے لیے مالی تعاون فراہم کریں۔ طالبان انتظامیہ کی سرپرستی میں مقامی لوگوں سے "گھر گھر جا کر" فنڈز اکٹھے کیے جا رہے ہیں، اور انکار کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ان فنڈز کا بنیادی مقصد پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے اسلحہ، لاجسٹکس اور خودکش بمباروں کی مالی معاونت کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان کو فتنہ الخوارج کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ طالبان رجیم کی جانب سے ان عناصر کو نہ صرف زمین فراہم کی گئی ہے بلکہ اب ان کی بقا کے لیے عوامی سطح پر جبری فنڈنگ بھی شروع کر دی گئی ہے، جو بین الاقوامی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان پہلے ہی متعدد بار عالمی سطح پر یہ ثبوت پیش کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ انکشافات کے بعدسرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز کو مزید الرٹ کر دیا گیا ہے۔پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے اپنے وعدے پورے کرے۔
افغان طالبان کا مکروہ چہرہ بے نقاب: پاکستان میں دہشت گردی کیلئے 'فتنہ الخوارج' کی فنڈنگ مہم تیز
12:35 PM, 4 Apr, 2026