لاہور: پاکستان کے معروف گلوکار اخلاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے، مگر ان کی مسحور کن آواز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ اخلاق احمد کا 10 جنوری 1946 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1960 میں سٹیج گلوکاری سے کیا۔ 1974 میں فلم ’’چاہت‘‘ کے لیے گایا گیا ان کا گیت سپر ہٹ ہوا اور ان کا شمار فلمی دنیا کے ممتاز گلوکاروں میں ہونے لگا۔
اخلاق احمد نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا جب گلوکاروں کے لیے فلموں میں جگہ بنانا انتہائی مشکل تھا۔ لیکن اپنی سریلی آواز اور محنت کے بل بوتے پر انہوں نے ایک منفرد مقام حاصل کیا، خاص طور پر فلم ’’بندش‘‘ کے گانے نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔
انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے 86 فلموں میں 177 نغمے گائے۔ اخلاق احمد کا آخری گانا 1989 میں فلم ’’نکاح‘‘ میں شامل کیا گیا۔ ان کی گائیکی آج بھی مداحوں میں بے حد مقبول ہے۔ اخلاق احمد کو سات بار نگار ایوارڈز سے نوازا گیا۔
افسوس کہ اخلاق احمد 4 اگست 1999 کو کینسر کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی آواز اور گانے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔