اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا حل مخلصانہ اور شفاف مکالمے میں ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
گیارہویں این ایف سی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ وزیر خزانہ نے تمام شرکاء کا اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا ایک اہم موقع ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا یہ عمل وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان گہرے تعاون کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے تیار ہے اور تمام صوبے ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مابین مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہی موجودہ خدشات کا حل ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان قدرتی آفات کے باوجود تمام صوبے وفاق کے ساتھ متحد کھڑے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بامقصد اور تعمیری مباحثہ جاری رہیں گے تاکہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو سکیں۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط کرنا ایک اہم قدم ہے اور اس سے قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے صوبوں کے سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تعاون کو سراہا۔
دوسری جانب، وزارتِ منصوبہ بندی نے این ایف سی کے حوالے سے دو اہم تجاویز وزیراعظم کو پیش کی ہیں جن میں قابل تقسیم محاصل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹرسکیورٹی، سول آرمڈ فورسز اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے ڈھائی فیصد کٹوتی کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد ساڑھے 57 فیصد صوبوں اور ساڑھے 42 فیصد وفاق کو ملیں گے۔ دوسری تجویز کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات قابل تقسیم محاصل سے نکال کر وفاق کے وسائل میں اضافہ کرنے کا امکان ہے۔
این ایف سی کی تقسیم میں صوبوں کے درمیان آبادی کے بجائے ریونیو جنریشن، زرخیزی اور جنگلات کے رقبے جیسے عوامل کو زیادہ اہمیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔