نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔سلامتی کونسل کے اراکین نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ کونسل کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں متاثرہ خاندانوں اور حکومتِ پاکستان سے دلی تعزیت کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔
اپنے اعلامیے میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ دہشت گردی اپنی تمام تر شکلوں میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بدترین خطرہ ہے۔ کونسل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی فعل، چاہے وہ کسی بھی مقصد کے تحت کیا گیا ہو، مجرمانہ ہے اور اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
کونسل نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ حملوں کے منصوبہ سازوں، معاونین اور مالی سہولت کاروں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں تمام رکن ممالک بین الاقوامی قوانین کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کو یقینی بنائیں۔
سلامتی کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کے متحد عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت، عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار
05:03 PM, 4 Feb, 2026