تہران : ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات اب ترکیہ کے بجائے عمان میں ہوں گے۔ تہران نے واشنگٹن کو مذاکرات کا مقام تبدیل کرنے پر آمادہ کر کے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایرانی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ عمان ایک غیر جانبدار اور موزوں ملک ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات وہاں منتقل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
دونوں ممالک کے وفود اب جمعہ کے روز عمان میں میز پر بیٹھیں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے تمام ابتدائی کام اور تیاریاں مکمل ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ نے معاہدے میں ناکامی کی صورت میں تہران کو 'برے نتائج' کی دھمکی دے رکھی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدہ حالات کے باوجود امریکہ کو اپنی پسند کے مقام پر لانا ایران کی بڑی سفارتی فتح ہے۔ عمان طویل عرصے سے خطے میں ایک ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس لیے ان مذاکرات سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔
ایران امریکہ مذاکرات کا مقام تبدیل، تہران کی درخواست پر واشنگٹن عمان منتقلی پر راضی
06:20 PM, 4 Feb, 2026