چادر چار دیواری اور  تعلیمی ادارے

01:55 PM, 4 Jul, 2026

تحریر: طارق وسیم

چند روز کے دوران لاہور میں دو ایک جیسے واقعات نے  پوری قوم کو  رنج و الم میں مبتلا کردیا ہے ، کاہنہ اور باغبان پورہ میں  زمین بوس ہونے  والے ٹیوشن سنٹرز کی  چھتوں  کے ملبے تلے دب کر مجموعی طور پر 15 بچے جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ،کاہنہ میں 14 اور باغبان پورہ میں ایک بچہ جان سے گیا ،ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر میں 3500 سے 4500 ایسے ٹیوشن سنٹرز موجود ہیں جہاں کوئی بورڈ تک آویزاں نہیں ،زیادہ تر ایسے ٹیوشن سنٹر گھروں میں  ہیں اور انڈر میٹرک بچوں کی بڑی تعداد یہاں پڑھتی ہے ،لاہور کے مضافاتی علاقوں میں یہ ایک منفعت بخش کام ہے جسے لوگ اچھی نظر سے دیکھتے ہیں ،ایسی آبادیاں جہاں زیادہ تر  محنت  کش   طبقہ رہائش پذیر ہے وہاں  بچوں کو پڑھانے والے لوگوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔
ان حالات میں اگر کوئی اپنے گھر میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دے ،تو اس  کے پاس سٹوڈنٹس کا تانتا بندھ جاتا ہے، پنجاب میں یہ کلچر 1980 کی دہائی میں عام ہوا ،اس سے قبل ایسا کوئی تصور نہیں تھا بچے سکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک  بغیر کیس کوچنگ اور ٹیوشن کے پڑھا کرتے تھے ،لیکن پھر   سائنس سٹوڈنٹس  کے درمیان ایک مقابلہ بازی شروع ہوئی، سب کو ڈاکٹر یا انجینئر بننا تھا میٹرک  اور انٹر میڈیٹ میں اچھے نمبر لینے تھے ،گھروں میں اول تو زیادہ پڑھے لکھے لوگ موجود نہیں تھا، اور جہاں تھے ان کی مصروفیات زیادہ تھیں ،اس کے علاوہ اکثر بچے گھر والوں سے پڑھتے ہوئے  ڈسپلن  کا  خیال نہیں رکھتے تھے ،سو دیگر لوگوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی ۔یہ لوگ بہت محنت سے بچوں کو پڑھاتے  تھے، نتیجہ سٹوڈنٹس کی کارکردگی بہتر سے بہترین ہوتی گئی ۔
 گھروں میں قائم زیادہ تر ٹیوشن سنٹرز محفوظ اور مضبوط چھتوں کے نیچے ہی بنے ہوتے ہیں، ماسوائے چند  کیسز کے  ،ایسا ہی ایک سپیشل کیس کاہنہ میں بھی ہوا  لیکن شاید ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا اکثر ٹیوشن سنٹرز میں بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے ۔  ایسا ہی ایک اور  واقعہ باغبان  پورہ میں پیش آیا لیکن وہ کیس کاہنہ سے اس لیے مختلف تھا کہ وہاں سکول کم ٹیوشن سنٹر کام کر رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق   1960 میں    پاکستان میں 35 فیصد  سے زیادہ طلبا سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے   جو2026 میں کم ہو کر 20 فیصد رہ گئے  ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے بھر میں  ایک  سروے  کرائے اور ایسے ٹیوشن سنٹرز  جو مخدوش عمارتوں میں چل رہے ہیں ان کے خلاف ایکشن لے ،یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس ہر صورت برقرار رہے ،وہ خواتین اور بچیاں جو گھروں میں بچوں کو پڑھارہی  ہیں حد درجہ قابل احترام ہیں   او ر یہ احترام ہر صورت  قائم رہنا چاہیے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں